(2) مرتے دم تک عبادت
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ (۹۹) (پ۱۴، الحجر:۹۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور مرتے دم تک اپنے ربّ کی عبادت میں رہو۔
علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ مذکورہ آیت میں یقین کا معنی موت ہے کیونکہ موت ہرزندہ مخلوق کو یقینی طور پر لاحق ہوتی ہے اور آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اے بندے!اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی زندگی بھر اِس طرح عبادت کر کہ ایک لمحہ بھی عبادت سے خالی نہ ہو۔ ‘‘ (1)
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف توجہ رکھو
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ (۸) (پ۲۹، المزّمِّل:۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور اپنے ربّ کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔
تفسیر بیضاوی میں ہے: ’’ یعنی دن اور رات اس کا ذکر کرتے رہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں تسبیح وتہلیل، تمجیدوتمہید، نماز، تلاوت قرآن اور علم کی مجلس سب شامل ہیں ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کے ذریعے اسی کے ہو رہو اور اپنے دل کو اس کے ما سوا سے خالی کردو۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - تفسیر بیضاوی، پ۱۴، تحت الآیۃ: ۹۹، ۳ / ۳۸۳ ۔
2 - تفسیر بیضاوی، پ۲۹، ، تحت الآیۃ: ۴۷۸، ۵ / ۴۰۶ ۔