Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
144 - 662
                                                                                                       باب نمبر:11			
مُجَاہَدَہ کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے انسان کو مسلسل کوشش اور اَنتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کامیابی اُن ہی کامقدر  بنتی ہے  جو اپنے مقصد میں حائل ہونے والی نفسانی خواہشات کو  ٹھکرا کراپنا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ اس میں پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے ہیں ۔مسلمان  کی منزلِ مقصود اپنے ربّ کریم عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کا حصول  ہے جس کا نتیجہ آخرت میں ملنے والی جنت اور اس کی دیگر دائمی نعمتیں ہیں ۔اس  عظیم منزل تک رَسائی  کے ‏لیے  نفسانی خواہشات کو ترک کرنا بہت ضروری ہےاور اِسی کا نام مُجَاھَدَہہے۔ریاض الصالحین کایہ باب مُجَاھَدَہکے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں 6آیاتِ مبارکہ اور 17 اَحادیثِ کریمہ بیان فرمائی ہیں ۔اس باب میں مجاہدہ کی تعریف،  مراتب،  حقیقت اور اس سے متعلق روایات وحکایات اور دیگر مفید باتیں بیان کی جائیں گی۔ پہلے آیاتِ مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
 (1) راہِ خدا میں کوشش
اللہ عَزَّ  وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ (۶۹)   (پ۲۱، العنکبوت:۶۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔
عَلَّامَہ اَبُوْ مُحَمَّد حُسَیْن بِنْ مَسْعُوْد بَغَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’ ہم انہیں ایسے سیدھے راستے کو پالینے کی توفیق دیں گے جس کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا تک پہنچا جاتا ہے۔ ‘‘  ایک قول یہ ہے کہ نیکیوں پر صبر کرنے کا نام مجاہدہ ہے۔حضرت سَیِّدُنَا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ  ’’ نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا سب سے افضل جہاد ہے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا فُضَیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْفَیَّاضنے اس آیت  کے تحت  فرمایا:  ’’ جو طلبِ علم میں کوشش کرے ہم  اسے عمل کی راہ دیں گے۔ ‘‘ حضرت سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ جو سنتیں اپنانے کی کوشش کریں گے  ہم اُنہیں جنت کی راہ دکھا  ئیں گے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ ‘‘  (1) 



________________________________
1 -   تفسیر بغوی، پ۲۱،  تحت الآیۃ: ۶۹، ۳‏ /  ۴۰۸ ۔