Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
142 - 662
93یہودی قتل ہوئے اور 15مسلمان جام شہادت سے سیراب ہوئے۔ (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اپنے پیارے نبی  کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین سن کر فوراً اس پر عمل پیرا ہونے اور نیکیوں میں  ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے  تھے ۔ اس ضمن میں 2 واقعات ملاحظہ فرمائیے:
حکم نبوی کی تعمیل میں جلدی:
حضرت  سَیِّدُنَا رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ  سفر پر تھے۔ ہمارے اونٹوں پر  سرخ ڈورے  والی چادریں تھیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں دیکھتا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہوتی جارہی ہے۔ ‘‘  یہ فرمان سنتے ہی  ہم  گھبرا کر ایسے  اُٹھے کہ ہمارے بھاگنے سے اونٹ بھی ادھر اُدھر بھاگنے لگے اور ہم نے فوراً سب چادریں اونٹوں سے اُتار لیں ۔ ‘‘  (2)  
نیک اَعمال میں جلدی کرو:
حضرتِ سَیِّدُنامنذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت  سَیِّدُنَا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو دیکھا وہ اپنے آپ سے کہہ رہے تھے:  ’’ کم بخت عمل پر جلدی کر،  اس سے پہلے کہ حکم آجائے۔ ‘‘ یہ بات آپ نے60مرتبہ دہرائی میں سن رہا تھا لیکن وہ مجھے نہیں دیکھتے تھے۔
حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرمایا  کرتے تھے: ’’ جلدی کرو،  جلدی کرو، کیونکہ یہ چند سانسیں ہیں اگر رک گئیں تو تم قرب خداوندی والے اعمال نہ کر سکو گے۔اللہ تعالٰی اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے۔ ‘‘  پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :



________________________________
1 -   سیرت مصطفیٰ ، ص۳۸۰تا۳۹۰ ملخصا۔
2 -   ابو داود، کتاب اللباس، باب فی الحمرۃ، ۴‏ / ۷۴، حدیث: ۴۰۷۰۔