آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسا پینترا بدلا کہ مُرَحَّب کا وار خالی گیا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹ گیا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اورایک روایت میں ہے کہ اس کی رانوں تک پہنچ گئی اور اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔
مُرَحَّب کی لاش کو زمین پر تڑپتادیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیرخدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مُرَحَّب، حارِث، اَسِیْر، عَامِر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک اکھاڑ دیا اور درازے کو ڈھال بناکر اس پر دشمنوں کی تلواریں روکتے رہے۔ یہ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ جنگ کے بعدچالیس آدمی مل کر بھی اسے نہ اٹھاسکے۔جنگ جاری تھی کہ حضرت علی شیرخدارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کمال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے خیبر کو فتح کرلیا اور حضرت صادق الوعد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان، صداقت کا نشان بن کر فضاؤں میں لہرانے لگا کہ:”کل میں جھنڈا اسے دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ فتح دے گا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاو رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا محب و محبو ب ہے ۔“
بے شک! حضرت مولائے کائنات مولا مشکل کشا حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اللہ و رسول کے محب و محبوب ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ سے خیبر کی فتح عطا فرمائی اور قیامت تک کے لیے اللہ تعالٰی نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فاتح خیبر کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا اور یہ وہ فتح عظیم ہے جس نے پورے ”جزیرہ ٔعرب“میں یہودیوں کی جنگی طاقت کا جنازہ نکال دیا۔ فتح خیبر سے قبل اسلام یہودیوں اور مشرکین کے گٹھ جوڑ سے نزع کی حالت میں تھا لیکن خیبر فتح ہوجانے کے بعد اسلام اس خوفناک نزع سے نکل گیا اور آگے اسلامی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مکہ بھی فتح ہوگیا۔ اس لیے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاتح خیبر کی ذات سے تمام اسلامی فتوحات کا سلسلہ وابستہ ہے۔ بہرحال خیبر کا قلعہ20 دن کے محاصرہ اور زبردست معرکہ آرائی کے بعد فتح ہوا۔ ان معرکوں میں