مولاعلی پر خصوصی فضل وکرم:
حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ اس روز مجھے بڑی تمنا تھی کہ کاش! آج مجھے جھنڈا عنایت ہوتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس موقع کے سوا مجھے کبھی بھی فوج کی سرداری اور افسری کی تمنا نہ تھی۔لیکن صبح کو اچانک یہ صدا لوگوں کے کان میں آئی: ’’ علی کہاں ہیں ؟ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بلایا اور ان کی دکھتی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا کر دعا فرمائی تو فوراً ہی انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی کہ گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔ پھر تاجدارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست مبارک سے اُمُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی سیاہ چادر سے جھنڈا تیار کر کے حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْمکودیا اور فرمایا : ’’ تم اطمنیان سے جاؤ اوریہودیوں کو اسلام کی دعوت دواور بتاؤ کہ مسلمان ہوجانے کے بعد تم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہ یہ حقوق واجب ہوں گے۔ خدا کی قسم!اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری بدولت اسلام قبول کرلیا تو یہ دولت تمہارے لیے سُرخ اُونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قلعے کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹوں ، پتھروں اور تیرو تلوار سے دیا اور قلعہ کا رئیس اعظم”مُرَحَّب“سرپرزَردیمنی چادرکاڈھاٹاباندھے اس پرپتھرکاخودپہنے، رجزکایہ شعر پڑھتے ہوئے حملے کے لیے آگے بڑھا:
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّیْ مُرَحَّب………شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّب
(یعنی خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ”مُرحَّب“ہوں ، اسلحہ پوش، بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں ۔)
حضرتِ سَیِّدُناعلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے جواب میں رِجْز کا یہ شعر پڑھا:
اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہ………کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ
(یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں ۔) مُرَحَّب نے بڑے طَمْطَراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیرخدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر