Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
139 - 662
نکلے  توحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھ کر چلِّانے لگے: ’’ خدا کی قسم! اس لشکر کے  ساتھ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہیں ۔ ‘‘ ان کی چیخ  وپکار سن کرحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ خیبر برباد ہوگیا۔بلاشبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتےہیں تو کفار کی صبح بُری ہوجاتی ہے۔ ‘‘ 
یہودیوں نے اپنی عورتیں ، بچےاورراشن وغیرہ”ناعِم“قلعےمیں پہنچادیااور ان کی فوج ”نَطارَہ“اور   ”قموص“ کے قلعوں میں  جمع ہو گئی ۔  وہاں تمام  قلعوں میں سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ قلعہ”قموص“ تھا۔ جس کا رئیس ”مُرَحَّب“یہودی تھا  جوعرب کے   ایک ہزارسواروں  کے برابر مانا جاتا تھا۔ یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی،  جو مختلف قلعوں کی حفاظت کے ‏لیے مورچہ بندی کیے ہوئے تھی۔
قلعہ خیبر پر پے درپے مختلف حملے:
 اس قلعے   پر کئی حملوں کےباوجود یہ فتح  نہ ہوسکا ۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس قلعہ پر پہلے دن حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کمان میں اسلامی فوجوں کو چڑھائی کے ‏لیے بھیجا اور انہوں نے بہت ہی شجاعت  و جانبازی  سے  حملہ کیا مگر یہودیوں نے قلعہ کی فصیل پر سے اس زور کی تیراندازی اور سنگ باری کی کہ مسلمان قلعہ کے پھاٹک تک نہ پہنچ سکے اور رات ہوگئی۔ دوسرے دن حضرت  سَیِّدُنَا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زبردست حملہ کیااور مسلمان بڑی گرم جوشی کے ساتھ بڑھ بڑھ کر دن بھر قلعہ پر حملہ کرتے رہے مگر قلعہ فتح نہ ہوسکا۔ چنانچہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  ارشاد فرمایا:”کل میں اسےجھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالٰی فتح دے گا،  وہ اللہ ورسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی۔“ راوی نے کہا کہ لوگوں نے یہ رات بڑے اِضطراب میں گزاری کہ دیکھیے کل جھنڈا  کس  کودیا جاتا ہے؟ صبح صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بارگاہِ اَقدس میں بڑے اشتیاق کے ساتھ یہ تمنا  ‏لیے  حاضر ہوئے کہ یہ اعزازوشرف ہمیں مل جائے۔ اس ‏لیے کہ جس کو جھنڈا ملے گا اس کے ‏لیے تین بشارتیں ہیں ۔ (۱)  وہ اللہ و رسول کا محب ہے۔ (۲)  وہ اللہ ورسول کا محبوب ہے۔ (۳)  خیبر اس کے ہاتھ سے فتح ہوگا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد