Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
138 - 662
 عرض کی:  ’’ یارسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں لوگوں سے کس بنیاد پر جہاد کروں ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا:  ’’ تم لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرو کہ وہ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ،  کی شہاد ت دیں ۔ جب وہ  اس کی شہادت دے دیں تو انہوں نے تم سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیا ، مگر یہ کہ ان پر کسی کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ تعالٰی کے ذمہ ہے۔ ‘‘ 
 چونکہ یہ حدیث پاک ”غزوہ خیبر“سے متعلق ہے۔اس ‏لیے  اس  غزوہ   کے بارے میں شیخ الحدیث  علامہ عبد المصطفے اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی تالیف”سیرتِ مصطفیٰ“سے   چند واقعات پیش خدمت ہیں ۔  
غزوہ ٔخیبر:
”خیبر“مدینہ منورہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں ۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی  مالی اور جنگی  طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا،   یہ لوگ اسلام اور  بانی اسلام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بدترین دشمن تھے،  یہاں  یہودیوں  نے بہت  سے مضبوط قلعے  بنا رکھے  تھے،  جن میں بعض کے آثار  اب تک موجود ہیں ۔ ان میں سے آٹھ  قعلے بہت مشہور ہیں ۔ درحقیقت یہ آٹھوں  قلعے  آٹھ محلوں  کے مثل تھے  اور انہی آٹھوں  قعلوں کا مجموعہ”خیبر“ کہلاتا تھا ۔
جنگ ِخیبر کا سبب:
جنگ ِخندق  کے بعد جب ”بنونضیر“ کے یہودی مدینہ منورہ  سے جِلاوطن کیے گئے تو  وہ  خیبر چلے گئے۔ ان کے سینوں میں انتقام آگ  کی  بھڑک رہی تھی۔ چنانچہ  وہ مدینہ منورہ پر دو بارہ حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔اس مقصد کے ‏لیے انہوں نے عرب  کے ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجو قبیلے غطفان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ۔خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے بڑے سرمایہ دار ،  جنگجو اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہوگئی۔ وہ لوگ  مسلمانوں کو تہس نہس کرنا چاہتے تھے۔ جب رسول خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خبر ملی توآپ  1600صحابۂ کرام کا  لشکر  لے کرجانب ِخیبر روانہ ہوئے ۔ اور  نماز فجر کے بعد شہر میں داخل ہوگئے۔خیبر کے یہودی کھیتوں میں کام کاج کے ‏لیے قلعہ سے  باہر