Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
135 - 662
کلام میں فرماتے ہیں : 
ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اَب کرلو ابھی نوری جواں تم ہو
فتنۂ دجال کے متعلق کچھ معلومات:
فقہ حنفی کی مشہورومعروف کتاب”بہارِشریعت“ میں ہے:  (دجال )  چالیس40دن میں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن کے سوا تمام روئے زمین کا گشت کرے گا۔ چالیس دن میں ،  پہلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے۔ اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کرے گا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا۔ ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا۔جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی،  مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا،  وہ آرام کی جگہ ہوگی۔ اور وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا ،  جو اُس پر ایمان لائے گا،  اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کرےگا اُسے جہنم میں داخل کرے گا ،  مُردے جِلائے گا۔   زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اُگائے گی،  آسمان سے پانی برسائے گا اور اُن لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہوجائیں گے۔اورویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دَل کے دَل  (ڈھیر کے ڈھیر)  اس کے ہمراہ ہوجائیں گے۔
 اِسی قسم کے بہت سے شُعبدے  (نظر کے کھیل)  دکھائے گا۔اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے اور شیاطین کے تماشے،  جن کو واقعیت  (حقیقت)  سے کچھ تعلق نہیں ،  اِسی لیے اُس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ نہ رہے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا ملائکہ اس کا منہ پھیردیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے کہ وہاں جو لوگ بظاہر مسلمان بنے ہوں گے اور دل میں کافر ہوں گے اور وہ جو علمِ الٰہی میں دجّال پر ایمان لاکر کافر ہونے والے ہیں ،  اُن زلزلوں کے خوف سے شہر سے باہر بھاگیں گے اور اُس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ دجّال کے ساتھ یہود کی فوجیں ہوں گی،  اُس کی پیشانی پر