عبادت کب کرو گے ؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں بندوں کو دین میں کمی و کوتاہی کرنے پر ڈانٹا گیا ہے۔ یعنی تم اپنے ربّ کی عبادت کب کرو گے؟ اگر تم قلتِ مشاغل (فارغ اوقات) اورجسمانی قوت کے باوجود اس کی عبادت نہیں کرتے تو کثرت مشاغل (مصروفیت) اور بدن کی کمزوری کی صورت میں اس کی عبادت کیسے کرو گے؟ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ صحت ، مالداری، فراغت ، اور زندگی کو رائیگاں نہ جانے دو ، اس میں نیک اعمال کرلو کہ یہ نعمتیں بار بار نہیں ملتیں ۔ میاں محمد صاحب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں : شعر
سدا نہ حُسن جوانی رہندی سدا نہ صحبت یاراں ……… سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
باغ میں بہاراوربہار میں بلبل کی شور وپکار ہمیشہ نہیں رہتے، کبھی آتے ہیں اسے غنیمت جانو۔ (مزید فرماتے ہیں ) اگر تمہیں نیکیوں کا موقعہ ملا ہے اور تم کرتے نہیں ، کہتے ہو کہ آئندہ کرلیں گےتو کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ایسی بیماری کا جو سرکش بنادے یا ایسی فقیری کا جب تمہیں کچھ نہ بن پڑے ، لوگ تمہیں بھول جاویں ۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگوں کوحج کا موقع ملتا ہے نہیں کرتے، یہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ آئندہ دیکھا جائے گا ۔وہ آئندہ آئندہ کرتے ہی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں ۔ جوانی کھیل کود سے گما کر بڑھاپے میں جبکہ ہاتھ پاؤں قابو میں نہ رہیں عبادت کرنے کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے۔ جو کرنا ہے جوانی میں کرو، جوان صالح کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اگر ابھی اعمال نہیں کرتے تو کیا دجال کی آمد یا قیامت آنے کے منتظر ہو، اس وقت تم نیکیوں کی تمنا کروگے مگر نہ کر سکو گے۔یہ فرمان، اِظہارِعِتاب کے لیے ہے مقصد یہ ہے کہ نیک اعمال میں جلدی کرے۔ ‘‘ (2) شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہندمولانامصطفےٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اپنے نعتیہ
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، الفصل الثانی،۹ / ۲۹، تحت الحدیث: ۵۱۷۵۔
2 - مرآۃ المناجیح،۷ / ۱۶ ملتقطا۔