Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
133 - 662
اچانک آنے والی موت یادجّال کا جو غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے  یا قیامت کا۔اور قیامت  شدید مصائب والی  اور بہت کڑوی ہے۔ ‘‘ 
سات 7اُمورکی وضاحت:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: (1) ایسی امیری جو تجھے سرکش  وگناہ گار اوراحکامِ الٰہی سے روگردانی کرنے والا بنادے۔ (2)  ایسی محتاجی کہ جس کی وجہ سے انسان بھوک ،  لباس اور  غذا   کی جستجو میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت سے  غافل ہو جائے۔  (3) ایسی بیماری  جس کی شدت کی وجہ سے بدن میں خرابی  یا ایسی سُستی پیدا ہوجو دین میں خرابی کا سبب بنے۔  (4) ایسا بڑھاپا  جس کی  وجہ سے انسان کی عقل کمزور ہو جائے اور اسے پتہ ہی نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے۔  (5) اچانک آنے والی موت کہ مرنے والے کو توبہ اوروصیت کا وقت بھی نہ ملے۔ ‘‘ علامہ قاضی  عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد ایسی موت  جواچانک بغیر کسی سبب کے واقع ہو جیساکہ کسی نے اسے قتل کردیا،  یاڈوب کر یادیوار کے نیچے دب  کرمر گیا۔ (6)  دجال جو بہت بڑا پوشیدہ فتنہ  ہےجس کا انتظار کیا جارہا ہے۔ (7) اور قیامت  جو بہت بڑی مصیبت ،   شدیدخوفناک اور بہت  سختی والی  ہے۔ ‘‘  (1) 
خوش نصیب کون؟ 
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں اس  شخص کو سست قرار دیا گیا ہے جو فراغت کے باوجود فرصت کے لمحات کو غنیمت نہ  جانے ۔ ایک قول  کے مطابق حدیثِ مذکور  کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص دنیا میں مذکورہ حالات میں سے کسی ایک کا منتظر ہے۔خوش نصیب وہ ہے جو فرصت، صحت مندی اور  جسمانی طاقت کو غنیمت جانتے ہوئے فرائض و سنن کی ادائیگی میں مشغول ہو جائے ۔ اس  سے پہلے کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ ‘‘  (2)   ( اور پھر  عبادت کا موقع ہی نہ ملے۔) 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، الفصل الثانی،۹‏ / ۲۹، تحت الحدیث: ۵۱۷۵ملتقطا۔
2 -   شرح الطیبی،کتاب الرقاق،  الفصل الثانی، ۹ ‏ / ۳۴۲، تحت الحدیث: ۵۱۷۵۔