(1) عموماً ہر نیا حاکم سابق حاکم سے زیادہ سختیاں اور سزائیں لے کر آتا ہے ۔
(2) سب سے ا فضل و پاکیزہ زمانہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ ہے ۔ پھر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا زمانہ پھر تابعین عظام کا۔
(3) جس زمانے میں بدعتیں عام ہوجائیں اور سنتیں ختم ہونے لگیں تو وہ زمانہ برا ہے ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندے غیر محرم عورتوں سے کلام تک نہیں کرتے۔بوقت ضرورت بھی مختصر بات کرتے ہیں بلکہ حتی الامکان کوئی ایسی راہ تلاش کرتے جس سے بات کرنے کی نوبت نہ آئے۔ جیسا کہ واقعہ مذکورہ میں ان بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس عورت سے کہا تھا کہ اگر میں تمہارے گھر کا راستہ بھولوں تو زبان سے بات کرنے کے بجائے پتھر پھینک کر راستہ بتا دینا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظالم وجابر حکمرانوں کے ظلم سے محفوظ فرمائے، سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ شَرْعِیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:93
نیک اَعمال میں جلدی کی ترغیب
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَ ۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِا لْاَعْمَالِ سَبْعًا، ہَلْ تَنْتَظِرُونَ اِلَّا فَقْرًامُنْسِیًا اَوْ غِنًی مُطْغِیًا اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا اَ وْ ہَرَمًا مُفْنِدًا اَوْمَوْتًا مُجْہِزًا اَوِ الدَّجَّالَ، فَشَرُّ غَائِبٍ یُنْتَظَرُ ، اَوِ السَّاعَۃَ ، فَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ. (1)
ترجمہ :حضرت سيدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو!تمہیں انتظار نہیں مگر بھُلا دینے والی محتاجی یاسر کش بنا دینے والی مالداری یامُفسدمَرض یاعقل زائل کردینے والے بڑھاپے یا
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الزھد ، باب ما جا ء فی المبادرۃ،۴ / ۱۳۷، حدیث: ۲۳۱۳۔