سب زمانوں سے افضل واعلیٰ ہے۔ (1) (جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیا میں جلوہ گر ی سےقبل جو بد ترین دَور تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔)
شر سے کیا مراد ہے؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرح مشکاۃ میں اسی کی مثل ایک اور حدیث پاک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ ’’ ایک دور ایسا آئے گا جس میں لوگ بدعتیں رائج کریں گے اور سنتوں کو چھوڑ دیں گے یہاں تک کہ ہر طرف بدعتوں کا رواج ہو گااورسنتیں ختم ہوجائیں گی۔ ‘‘ پس یہ حدیث اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہے کہ ”شر“ سے مرادسنتوں کا خاتمہ اور بدعتوں کا زندہ ہونا ہے۔ (2)
بدتر ہونے کی ایک وجہ:
آنے والا دور پہلےسے بدتر ہو گا۔اس بدتری کی ایک وجہ عہدِ نبوی سے دُوری ہے۔ کیونکہ زمانہ جتنا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ اَقدس سے دُور ہوتا جارہا ہے ، اُسی قدر بُرائیاں بڑھتی جارہی ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ جہان کے لیےروشن مشعل کی طرح ہے۔ پس جیسے جیسے دنیا زمانۂ نبوی سے دُور ہوتی جارہی ہے اس میں اندھیروں اور حجابات کی زیادتی ہو رہی ہے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجن کے قلوب صحبت ِنبوی کی برکت سے انتہائی باکمال و صاف وشفاف تھے لیکن حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد انہوں نے اپنی حالت میں تبدیلی محسوس کی۔ ‘‘ (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الفتن ، باب لا یاتی زمان ۔۔۔الخ، ۱۶ / ۳۳۹، تحت الحدیث: ۷۰۶۸۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن، الفصل الاول ، ۹ / ۲۶۹، تحت الحدیث: ۵۳۹۲۔
3 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن ، الفصل الاول، ۹ / ۲۶۹، تحت الحدیث: ۵۳۹۲۔