Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
129 - 662
مختلف زمانوں کی فضیلت کی وضاحت:
سوال:حجاج  بن یوسف کے زمانے کے فوراً بعد حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا دَورِخلافت تھا۔جس کی اچھائی کی شہرت  چہاردانگ عالَم میں تھی۔اُس دور میں شر اور فتنے  ختم ہوگئے تھے۔ پھر   حجاج بن یوسف کا دور پہلے ہونے کی وجہ سے اس  دورسے  بہتر کیسے ہوا؟ 
پہلاجواب:دور کے اچھا ہونے سے مراد یہ  ہے کہ  مجموعی اعتبار سے وہ  اچھا ہوگا۔حجاج بن یوسف   (ظالم وجابر  تھا لیکن  اس)  کےزمانے میں کثیر صحابۂ کر ام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود تھے۔ جب کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد  (کا دورِخلافت عدل وانصاف سے بھرا ہوا تھالیکن ان) کے  دور  میں سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاکوئی بھی صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُموجود نہ تھا ۔ اور جس  زمانےمیں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود ہوں وہ اپنے بعد والے زمانے سے اعلیٰ  و افضل ہی ہوگا جیسا کہ اس  حدیث پاک  سے ثابت ہوتا ہے: ’’ بے شک ! سب سےبہتر میرا زمانہ ہے ،  پھر وہ لوگ  جو اُن کے بعد آئیں گے،  پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔ ‘‘ ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : ’’  میرے صحابہ میری اُمَّت کے ‏لیے امان ہیں ،  جب  یہ اس دنیا  سے رخصت ہو جائیں گے تو میری اُمَّت پر وہ وقت آئے گا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ‘‘ 
دوسراجواب:حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی زمانے کی افضلیت کو  اکثریت پر محمول کرتے ہیں لہٰذاکبھی اس کا خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ (یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہر آنے والا   دورپہلے  سے  برا ہو۔) 
سوال:حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زمانہ دَجّال  لعین کے زمانہ کے بعد  ہوگا۔ اور حدیث میں فرمایا گیا  کہ ’’ ہر آنے والا دورپہلے   سے بدتر ہوگا۔“ا ب تطبیق کی کیا صورت ہوگی؟ 
جواب:علامہ  کِرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں جس دور کو بُرا کہا گیا ہے اس سےحضرت سَیِّدُنَا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکےبعد کا  دور مراد ہے۔یا پھرخاص وہ  دور مراد ہے جس میں اُمَراء ہوں گے ،  ورنہ یہ بات تو  ضروریاتِ دِین سے ہے کہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا  زمانہ