Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
128 - 662
کرنے  کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:92	                                                                 
آنے والا دَور پہلے سے بُرا ہوگا
عَنِ الزُّبَیْرِ  بْنِ عَدِیٍّ قَالَ:اَتیْنَا اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  فَشَکَوْنَا اِلَیْہِ مَا نَلْقَی مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَال:اِصْبِرُوا فَاِنَّہُ لَا یَا تِی عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا وَالَّذِیْ بَعْدَہُ شَرٌّ مِنْہُ حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلمّ.  (1)  
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بن عَدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے  کہ ہم نے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہو کر جحاج بن یوسف کے مَظالِم کی شکایت کی تو انہوں نے  فرمایا:  ’’ صبر کرو، بے شک!تم پر آنے والا ہر دَور  پہلے دَورسے زیادہ بُرا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے  ربّ عَزَّ  وَجَلَّسے ملاقات کرو گے۔ یہ بات میں نے تمہارے نبی حضور نبی اکرم،  رسولِ محتشم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔ ‘‘ 
نیا دور پہلے والے سے برا:
عمدۃُالقاری میں ہے:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے بعد والے جب کسی گناہ گار کو پکڑتے تو اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کرتے اور اس کا عمامہ اُتار دیتے۔ زِیاد کے دور میں مجرم کو کوڑے مارے  جانے لگے۔ پھر مُصْعَب بِنْ زُبَیْرکے دور  میں مجرم کی داڑھی مونڈھ دی جاتی۔ بشر بن مروان کے  دور میں مجرم کے ہاتھوں میں کِیل ٹھوک دئیے جاتے۔پھرحجاج بن یوسف  کا دور آیا تو اس نے کہا:  ’’ یہ سب  سزائیں بے کار ہیں ۔ ‘‘ اورپھر وہ تلوار سے گردن اڑانے لگا۔ (2)   (معلوم ہوا کہ صاد ق اور مصدوق آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان  بالکل حق ہے کہ آنے والا دور پچھلےدور سے بد تر ہوگا۔) 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الفتن ، باب لا یاتی زمان، ۴‏ / ۴۳۳، حدیث: ۷۰۶۸۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب الفتن ، باب لا یاتی زمان ۔۔۔الخ،۱۶‏ / ۳۳۸، تحت الحدیث: ۷۰۶۸۔