Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
127 - 662
کے طبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ ِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  اپنالُعابِ دَہَن  (یعنی تھوک شریف)  لگا کر وہ کٹاہوا بازو  کندھے کےساتھ جوڑدیا۔ (1)   
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو  ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمین
مدنی گلدستہ
 ’’ اِسلام ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	  ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی  صحابۂ کرام   عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کسی نیک کام کی ترغیب دلاتے  تو وہ دل وجان سے  لَبَّیْک کہتے۔ 
(2)	 جسے اپنے ربِّ قدیر پر بھروسہ ہو وہ کبھی بھی باطل  سے نہیں ڈرتا اگرچہ باطل بظاہر کتنا ہی قوی ہواور یہ ایک اٹل  حقیقت ہے کہ   حق کے آتے ہی باطل  کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔  
(3)	میدان کا  ر      زار میں مسلمانوں کی قوتِ ایمانی مزید بڑھ جاتی ہے ۔
(4)	تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے پیارے  آقا،  مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بے انتہا محبت کرتے تھے۔  ان  کے روئیں روئیں  سے عشقِ رسول  کا اظہار ہوتا تھا  ۔ان کے نزدیک حکمِ نبی پر جان قربان کرنا  بہت بڑی سعادت تھی۔ 
(5)	 جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نبیوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائی ان کا مقدر ہوتی ہے،  ان کا اَنجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ ابو جہل لعین   جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سب سے بڑا دشمن تھا ،  دو ننھے مجاہدین کے ہاتھوں نہایت ذلت و رسوائی کی موت مرا اور  آخرت میں ہمیشہ کے ‏لیے درد ناک عذاب  اس کا مُقَدَّر ہے۔  
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشق رسول کی دولت عطا فرمائے ۔ عاشقانِ رسول کی صحبت اختیار 


________________________________
1 -   مدارج النبوۃ،۲ ‏ / ۸۷۔