بڑے سورماؤں کو للکارتے پھر شہید ہو کر جنت کی دائمی نعمتوں میں پہنچ جاتے یا فتح یاب ہو کر غازیوں کی صف میں شامل ہوتے ۔ اسی ضمن میں اسلام کے دو ننھے سپاہیوں کی جُرأت وبہادری کی حکایت ملاحظہ فرمائیے:
اسلام کے دوننھے مجاہد:
حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ بدر کے دن، میں جس صف میں موجود تھا وہاں میں نے اپنے دائیں بائیں دو نَوعُمر انصاری لڑکے دیکھے ۔ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کرمجھ سے کہا : ’’ اے میرے چچا :آپ مجھے ابو جہل دکھا دیجئے ؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اے میرے بھتیجے تم اس کا کیا کرو گے؟ ‘‘ کہا : ’’ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے عہد کیا ہے کہ اگر میں اسے دیکھوں گا تو اسے قتل کردوں گا یا میں خود قتل کر دیا جاؤں گا۔ ‘‘ اسی طرح دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھ سے اسی کی مثل گفتگو کی۔ ان کی گفتگو سن کر میں نے کہا : ’’ یہ بات مجھے پسند نہیں کہ اِن کے بجائے میں کسی اور کے درمیان ہوں ۔ پس میں نے انہیں ابو جہل کے بارے میں بتا دیا ۔ یہ سن کر وہ دونوں ننھے مجاہدعقاب کی طرح اس پر جھپٹے اور تلوار کے پے در پے حملوں سے اسے گرادیا۔ ‘‘ (1) یہ دونوں ننھے مجاہدحضرتِ سَیِّدُنا مُعَوَّذاور حضرتِ سَیِّدُنا مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاتھے ۔
مدارج النبوۃمیں ہے:حضرت سیِّدُنامُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ ’’ میں اپنی تلوار لہراتا ہوا ابوجہل پرٹوٹ پڑا۔میرے پہلے وار سےاس کی پِنڈلی کٹ کر دُورجاگری۔اس کے بیٹے عِکرَمہ (جوبعدمیں مسلمان ہوگئے تھے) نے مجھ پرتلوارکاوار کیاجس سے میرابازوکٹ گیا اورکھال کے ایک تَسمے کے ساتھ لٹکنے لگا۔میں اس بازوکوسنبھالے دوسرے ہاتھ سے دشمن پر تلوار چلاتا رہا۔ وہ بازو لڑنے میں رُکاوٹ بن رہا تھا، لہٰذامیں نے اسے پاؤں کے نیچے دبا کرکھینچا جس سے کھال کاتَسمہ ٹوٹ گیا۔ اب میں آزادہوکر پھرکُفّار پر حملے کرنے لگا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنَاقاضی عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے سَیِّدُنَا اِبن وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعدحضرتِ سَیِّدُنَا مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا کٹا ہوا بازو لے کر طبیبوں
________________________________
1 - بخاری،کتاب المغازی، باب: ۱۰، ۳ / ۱۴،حدیث: ۳۹۸۸۔