Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
125 - 662
 یہ  ہے کہ  اس  تلوار سے جہاد کرے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّمسلمانوں کو فتح سے ہمکنار فرمائے یا وہ شہید کردیا جائے۔ یہ سن کر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رُک گئےتو حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آگے بڑھے اور عرض کی: ’’ میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدراورغزوہ اُحُد میں شریک ہوئے۔آپ نےاورحضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےاس دن رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دفاع کیا۔ حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس تلوار کا حق کیا ہے؟  ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ یہ کہ تم اس سے دشمن کے چہروں  پر وار کرو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔ ‘‘  حضرت سَیِّدُنَا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’ میں   نےبھی وہ تلوار لینا چاہی  تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے منع فرمادیااورتلوار حضرت ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دےدی ۔ میں نے دل میں کہا:  ’’ میں ضرور دیکھوں گا کہ ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کیا کرتے ہیں ،  پس میں ان کے پیچھے ہولیا ، انہوں نے سر پر سُرخ پٹی باندھ لی۔انصار نے کہا کہ :ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے،  جب بھی آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرخ پٹی باندھتے تو انصار یہی کہتے تھے۔پھر  آپ کفا ر کے لشکر پر حملہ آور  ہوئے اور جو راستے میں آیا  اسے واصل جہنم کرتے گئے۔ (1)  
صحابۂ کرام کی مبارک زندگیاں :
میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی زندگیاں دین ِاسلام  کے لیے وقف کر دی تھیں ۔سفر  ہویاحضر،  گھر ہو یا بازار ،   امن ہو یا میدانِ کار زار  وہ   دین  اسلام کی خدمت میں مصروف عمل  رہتے۔ اس اہم کام کے ‏لیے انہیں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ تعداد کی کمی اور جسمانی ضعف کے  باوجود محض جذبۂ ایمانی   کی بدولت  وہ  کفار کے بڑے بڑے لشکروں سے ٹکرا جاتے۔ ننھے منے مجاہدبڑے 


________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی المبادرۃ الی الخیرات، ۱‏ / ۳۰۳، تحت الحدیث:  ۹۱۔