حدیث نمبر:91
تلوار کا حق
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ اُحُدٍ فَقَالَ:مَنْ یَاخُذُ مِنِّی ہَذَا؟ فَبَسَطُوْا اَ یْدِیَہُمْ کُلُّ اِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُوْلُ:اَنَا، أَنَا. قَالَ:فَمَنْ یَاخُذُہُ بِحَقِّہَ؟ فَاَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ أَبُوْدُجَانَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ :اَنَا اٰخُذُہُ بِحَقِّہِ، فَاَخَذَہُ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِیْنَ. (1)
اِسْمُ اَبِی دُجَانَۃَ: سِمَاکُ بْنُ خَرَشَۃَ. قَوْلُہُ :اَحْجَمَ الْقَوْمُ، اَیْ تَوَ قَّفُوْا. وَفَلَقَ بِہٖ، اَیْ شَقَّ. ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ، اَیْ رُؤُوْسَہُمْ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوہ اُحُد کے دن ایک تلوار اٹھا ئی اور فرمایا: ’’ یہ تلوارمجھ سے کون لے گا؟ ‘‘ تو وہاں موجود ہر شخص نے ہاتھ بڑھا تے ہوئے کہا: ’’ میں ، میں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اسے اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ ‘‘ پس لوگ سوچ میں پڑ گئے ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاابودُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ میں اسےا س کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ ‘‘ پھر انہوں نے وہ لی اور اس سے مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں ۔
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام سِمَاک بِنْ خَرَشَہہے۔ ’’ اَحْجَمَ الْقَوْمُ ‘‘ یعنی لوگ رُک گئے۔”فَلَقَ بِہٖ“یعنی اس کے ذریعےتوڑڈالیں ۔”ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ“یعنی مشرکین کی کھوپڑیاں ۔
تلوار کے حق سے کیا مراد ہے؟
مذکورہ حدیث پاک میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں حق سے مراد
________________________________
1 - مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل ابی دجانۃ ، ص۱۳۴۰، حدیث: ۲۴۷۰۔