ہونے لگتا ہے (یعنی موت کے وقت ) اسے خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ صدقات ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی ضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حریص آدمی کے لیے مال خرچ کرنا بہت تکلیف دہ ہے اسی لیے اس کا صدقہ افضل قرار دیا گیا ۔
(2) اپنےمسلمان بھائی کا مال نا حق لے لینا، زکوۃ ادا نہ کرنا اور حرام مال جمع کرنا یہ سب بخل کی وجہ سے ہوتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بخل سے بچے ۔
(3) زکوۃ کی ادائیگی، مہمان نوازی اور تنگدستی میں لوگوں کو مال دینا، یہ ایسےفضیلت والے اعمال ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ بخل جیسی مذموم صفت سے بری ہو جاتا ہے ۔
(4) حالت صحت میں کیے گئے نیک اعمال اورصدقہ وخیرات موت کے وقت کیے گئے نیک اعمال اور صدقہ وخیرات سے بہت بہتر ہیں ۔
(5) نیک بندے ہر حال میں اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے خالی رکھتے ہیں ۔ ان کے دل یادِ الٰہی سے معمور رہتے ہیں ۔وہ ہر اس چیز سے تعلق ختم کر دیتے ہیں جو آخرت کی تیاری میں رُکاوٹ بنے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کے صدقے ہمارے دلوں کو دنیاکی محبت سے پاک کر کے اپنی اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے سرشار فرمائے، ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ ، باب ایّ الصدقۃ افضل، ۶ / ۳۸۵، تحت الحدیث: ۱۴۱۹ ۔