مال خرچ کرنا نفس کے لیے انتہائی تکلیف دِہ اور دُشوار اَمر ہے ۔ اور یہ اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہونے والی قوت اور یقین کامل ہی کی بدولت ممکن ہے۔ اس لیے تندرستی کی حالت میں حریص کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔ ‘‘ (1)
مرتے وقت صدقہ وخیرات:
عَلّامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمزید فرماتے ہیں : ’’ یعنی صحت وتندرستی اور مال کی طرف محتاجی کی حالت میں تیراصدقہ کرنا افضل ہے نہ کہ اس وقت جب توزندگی سے مایوس اور مرض الموت کی حالت میں ہو کیونکہ یہ اس حالت میں گویا کہ مال تیری ملکیت سے نکل کر تیرے غیر یعنی وُرَثہ کی ملکیت میں جاچکا ہے۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’ آد می کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت ایک سو100 درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘
علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے فرمایا: ’’ بیماری میں سخاوت کرنے سے انسان کی علامتِ بخل ختم نہیں ہوتی، اسی وجہ سےشرط لگائی گئی ہے کہ (جب صدقہ کرنے والا) تندرُست ہو، اسے مال کی حرص ہو، طویل زندگی کی اُمید اور تنگدستی کے خوف کی وجہ سے اس کے دل میں مال کی قدر و وُقعت باقی ہو۔ ‘‘ (تو اب اس کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔)
حضرتِ سَیِّدُناابو دَرْداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورسید عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جوموت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا کسی شے سے دل بھر جائے پھر اسے ہبہ کردے۔‘‘
حضرت سَیِّدُنَا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو جب بتایا گیا کہ ہشام کی بیوی نے مر تے وقت اپنے تمام غلام آزاد کر دیئے ہیں توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’ لوگ اپنے مال میں دو مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے ہیں : (۱) جب ان کے پاس اپنا مال ہوتا ہے تو بخل کرتے ہیں ۔ (۲) جب وہ مال غیر وں کا
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ ، باب ایّ الصدقۃ افضل، ۶ / ۳۸۲، تحت الباب ۔