Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
121 - 662
الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟  فَقَالَ :اَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ،  وَتَأْمُلُ الْغِنَی،  وَلَا تُمْھِلْ حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ،  قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَاوَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ. (1) 
 ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے  کہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس صدقے میں زیادہ ثواب ہے؟  ‘‘ فرمایا:  ’’ تیراصدقہ کرنا اس حال  میں کہ تو  تندرست اور مال  کاحریص ہو،  تجھے  تنگدستی کا  خوف ہواور مالداری کی امید ہواور تو صدقہ کرنے میں اتنی دیر مت کر کہ سانس حلق تک پہنچ جائے ۔پھر تو کہے کہ  فلاں کے ‏لیے اتنا اور فلاں کے ‏لیے اتنا،  حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا تھا۔ ‘‘ 
 ’’ شُحٌّ ‘‘ کے مختلف معانی:
حدیثِ مذکور میں شَحِیْحٌ کا لفظ آیا ہے  یہشُحٌّسے مشتق ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے” شُحٌّ“کے مختلف معانی بیان کیے ہیں : (۱)  بخل  (کنجوسی)  (۲) وہ بخل جس کے ساتھ حرص  بھی ہو۔  (۳) ابو اسحق حربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شُحّ کی تین صورتیں ہیں :٭ایک یہ کہ تو اپنے بھائی کا مال نا حق لے لے۔ ٭دوسریوہ جو حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ زکوۃ  روکنا اور حرام مال جمع کرنا شُحّ کہلاتا ہے ۔٭اور تیسریصورت وہی ہے جو مذکورہ  حدیث پاک میں بیان کی گئی یعنی تندرست اور مال کے حریص کاصدقہ کرنا  اور جو چیز بخل کی ان تینوں صورتوں سے  بچاتی ہے  وہ  اس حدیث پاک میں بیان کی گئی ہے کہ وہ شخص بخل سےبَری ہوگیا جس نے زکوۃ ادا کی،  مہمان نوازی کی اورتنگی و پریشانی میں لوگوں کو مال عطا کیا۔‘‘  (2) 
حریص   (لالچی) کا صدقہ:
عمدۃ القاری میں ہے: ’’ حریص کے صدقے کی افضلیت بالکل ظاہر ہے کیونکہ  حرص  کے ہوتے ہوئے 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الزکاۃ، باب ای الصدقۃ افضل ،۱ ‏ / ۴۷۹، حدیث: ۱۴۱۹۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب الزکاۃ ، باب ای الصدقۃ افضل، ۶ ‏ / ۳۸۲، تحت الباب ۔