مدنی گلدستہ
’’ شَہَادَت ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن دل وجان سے وہ عمل کرتے جس سے ربّ تعالی کی رضا ملتی اور جس پر جنت کا وعدہ ہوتا۔
(2) حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے صحابہ کو جو مسئلہ درپیش ہوتا وہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے اور اُن کا مسئلہ حل کر دیا جاتا۔
(3) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور سرورِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے علم سیکھنے میں بہت حریص تھے ۔صُحْبَتِ نبوی کی برکت سے وہ ہمیشہ رضائے الٰہی والے اعمال کی جستجو میں رہتے تھے ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے نبی محمد مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایا ہےجبھی تو آپ لوگوں کے دلوں کے اخلاص، ان کی نیتیں اورجنت و دوزخ میں ان کے مقامات کے بارے میں نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ان کے متعلق خبر بھی دیتے ہیں ۔
(5) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے اعمال ِصالحہ کی طلب میں بہت جلدی کرتے ہیں ۔ بوقت ضرورت وہ بہت جذبے اور شوق سے اپنی جانیں دین اسلام کی سر بلندی کے لیے قربان کر دیتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی نیکیاں کرنے کا جذبہ عطا فرمائے، گناہوں سے نفرت عطا فرمائے، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:90
کو ن سا صدقہ اَفضل ہے ؟
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال:جَاءَرَجُلٌ إلی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ