Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
119 - 662
 مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’ ہم   نے ان کی نعش مبارک کو اس حال میں پایا کہ ان کے  جسم مبارک پر تیروں ،  تلواروں اور نیزوں کے 80سے زائد زخم تھے۔کفارِبداطوار نے ان کی آنکھیں  پھوڑ کر اور ناک،  کان،  ہونٹ  وغیرہ  کاٹ کرچہرہ اس قدر مسخ کر دیا  کہ  کوئی ان کی لاش کو پہچان نہ سکا ۔پھر ان کی بہن نے  انگلیوں کے پَوروں کو دیکھ کر پہچان لیا۔ہم نےانہیں دیکھاتوگمان کیا کہ یہ آیت مبارکہ ان  جیسوں کے حق میں نازل ہوئی ہے،  جس میں ارشاد ہوتاہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-  (پ۲۲،  الاحزاب: ۲۳) 
ترجمہ ٔ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچاکردیاجوعہد اللہ سے کیاتھا۔ (1) 
رسول اللہ کا علم غیب:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے  یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوبمُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ سوال کرنا کہ اگر مجھے شہید کردیا جائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کیا رائے ہے،  میں کہاں ہوں گا؟ یہ اس بات پردلالت ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کایہ عقیدہ تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعطائے الٰہی غیب کا علم جانتے ہیں ۔نیز اگر یہ عقیدہ قرآن وسنت کے خلاف تو یقینا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس صحابی کو منع فرمادیتے کہ یہ سوال نہ کرو،  لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع نہ فرمایا بلکہ انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین دین ومِلَّت،  پراونۂ شمعِ رسالت  مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن اپنے نعتیہ کلام  ’’ حدائق بخشش ‘‘  میں فرماتے ہیں :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الجھاد، باب قول اﷲ: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔الخ،۲‏ /  ۲۵۵،حدیث: ۲۸۰۵۔