Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
118 - 662
میں جہاد میں شہید کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟  جنت میں یا جہنم میں ؟   ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’ جنت میں ۔ ‘‘ پس  اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مرتبہ شہادت اورجنت کے حصول   کے ‏لیے کھجوریں  وہیں چھوڑیں اور جہاد  میں شریک  ہوکر  شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ ‘‘  (1) 
جنت کی خوشبو:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنی جانیں دیوانہ وار قربان کیا کرتے تھے۔انہیں اپنےپیارےآقا،  مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفرامین اوردینِ اسلام کی حقانیت پرایسا کامل یقین تھا کہ وہ حضراتِ قدسیہ دنیا میں رہ کر جنت کی خوشبو  پا لیا  کرتے تھے۔  چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت سَیِّدُنَا  انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بد ر میں نہ جاسکے۔انہوں نے بارگاہ ِرسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! غزوۂ بد ر جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی میں اس میں حاضر نہ ہوسکا ۔ اب  اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دیکھ لے گا کہ میں کیسے لڑتا ہوں ۔ ‘‘  
پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا  اور لوگ پسپاہو کر بھاگنے لگے توحضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’ یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ! بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، ان کی طرف سےمیں معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں میں اُن سے بَری ہوں ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتلوار لے کر میدانِ کارْ زَار کی طر ف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سَیِّدُنَا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو فرمایا: ’’ اے سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ!  جنت کی طرف آؤ ،  مجھے اپنے  ربّ کی  قسم!میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ۔ ‘‘   ( یہ کہہ کر آپ  کفار پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر لیا۔)  اس موقع پرحضرت سَیِّدُنَاسعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو کارنامہ حضرت سَیِّدُنَاانس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےسرانجام دیا،  میں ایسا نہ کر سکا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن


________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الجھاد، باب القتال فی الجھاد، الفصل الاول، ۷‏ / ۴۸۵، تحت الحدیث: ۳۹۳۷۔