Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
117 - 662
                 حدیث نمبر:89			
جَنَّت کی بِشَارَت
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  یَوْمَ اُحُدٍ:اَرَاَ یْتَ اِنْ قُتِلْتُ فَاَیْنَ اَنَا ؟  قَالَ:فِیْ الْجَنَّۃِ،   فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ،  ثُمّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ. (1) 
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے،  فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد کے دن ایک شخص نے حضور نبی کریم  رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ اگر میں شہید کردیا جاؤں تو آپ کی کیا رائے ہے،  میں کہاں ہوں گا؟  ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘  چنانچہ  انہوں نے  اپنے ہاتھ میں موجود  کھجوریں وہیں  چھوڑیں ۔ پھر جہاد کیا یہاں تک شہید کردیئے گئے۔
یہ جنتی شخص کون تھے؟ 
عُمْدَۃُ الْقَارِی میں ہے: اِبْنِ بَشْکُوَال کا گمان ہے کہ یہ شخص حضرت سَیِّدُنَا عُمَیْر بِنْ حُمام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ صاحبِ  تَلْوِ یح  نے بھی ان کانام عُمَیْر بِنْ حُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کیا ہے۔ (2) 
شہادت کا عظیم جذبہ:
فَتْحُ الْبَارِیمیں ہے : حضرت سَیِّدُنَاعُمَیْر بن حُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے  اپنے ہاتھ میں  کھجوریں لی ہوئی تھیں ،  پھر یہ کہہ کرکھجوریں وہیں چھوڑ دیں کہ : ’’  اگر میں انہیں  کھانے  تک زندہ  رہوں تو یہ  ایک طویل زندگی ہے ۔ ‘‘  پھر  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جہاد میں  شامل ہو گئے  اورلڑتے لڑتے  جامِ شہادت نوش کر لیا ۔اس حدیث  پاک سے پتہ چلا کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن رضائے الٰہی پانے کے‏لیے اسلام کی مدد اورحصول ِشہادت میں بہت زیادہ  رغبت رکھتے تھے۔ (3) 
 مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں ہے : ’’ اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے  بارگاہ رسالت میں عرض  کی: ’’ اگر 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ احد ، ۳‏ / ۳۵، حدیث: ۴۰۴۶۔
2 -   عمدۃ القاری ، کتاب المغازی، باب،غزوۃ احد، ۱۲‏ / ۹۵، تحت الحدیث: ۴۰۴۶۔
3 -   فتح الباری ، کتاب المغازی، باب،غزوۃ احد، ۸‏ /  ۳۰۲،  تحت الحدیث: ۴۰۴۶۔