حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحُد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں تیسری صبح تک اس میں سے کچھ بچا رکھوں سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ یاغوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کسی حاجت کی وجہ سے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے ۔
(2) نیک اُمور خصوصا ًصدقہ وخیرات میں جلدی کرنی چاہیے۔
(3) نماز کے دوران جائز اُمور کا اِرادہ کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
(4) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم توکل و قناعت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز تھے، آپ اگلے دن کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ فرماتے تھے۔
(5) عقل مندی و دانشوری کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو جس معاملے میں تشویش و تعجب ہو اس کی وضاحت کردی جائے ۔جیسا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب لوگوں کومتعجب دیکھا تو اپنے جلدی فرمانے کی وجہ ارشاد فرما دی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر آخرت کی محبت ڈال دے، ہمیں رضائے الٰہی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائےاورعشق رسول کی دولت عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، الترغیب فی الانفاق فی وجوہ الخیر،۱ / ۴۳۸، حدیث: ۱۳۸۱۔