Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
115 - 662
صحابہ  کرام کی محبت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’  معلوم ہوا کہ ضرورۃ ً لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے مسجد سے نکل جانا جائز ہے۔جیسے اگر امام کا دورانِ نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرکے گردنیں پھلانگتا ہوا ہی وضو گاہ تک پہنچے گا۔ جن احادیث میں گردنیں پھلانگنے کی ممانعت آئی ہے وہاں بلا ضرورت پھلانگنا مراد ہے۔ جیسے کوئی نماز کے ‏لیے مسجد میں پیچھے پہنچے،  پھر لوگوں کوچیرتا ہوا اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے یہ ممنوع ہے۔ لہٰذا احادیث میں تعارُض نہیں ۔صحابہ کر ام حضورانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہر حال شریف کا بہت غور سے مطالعہ کرتے تھے اور کسی معمولی جنبش پر دیوانہ وار گھبرا جاتے تھے۔ اگرسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خلافِ معمول کبھی غائب ہوتے تو مدینہ منورہ کی گلیوں اور آس پاس کے جنگلوں میں ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے۔آج خلاف معمول جو حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بغیر دعا مانگے جاتے دیکھا تو گھبرا گئے۔ ‘‘ 
 (ارشاد فرمایا: مجھےاپنے  پاس سونے  کا ایک ٹکڑا یاد  آگیا  تو مجھے ناپسند ہوا کہ  وہ مجھے مشغول کرے۔) ظاہر یہ ہے کہ وہ سونے کا پترا  (ٹکڑا)  حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی ملکیت تھا اور فوری ضرورت سے زیادہ تھا۔ اس کا گھر میں رکھنا بھی ناپسند آیا ، فوراً خیرات کرادیا۔مشغول رکھنے میں دو احتمال ہیں :ایک یہ کہ اس کی وجہ سے نماز میں دھیان بٹے کہ اسے کہاں سنبھالیں کہاں رکھیں ۔ اور دوسرا یہ کہ ر بّ تعالٰی سے قربِ خاص میں یہ حارج ہو۔ ‘‘  (1) 
اُحد پہاڑ جتنا سونا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے برگزیدہ  بندوں کے نزدیک  مال ودولت  کی کچھ قدر واہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ضرورت سے زیادہ کوئی چیز اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں  کرتے  بلک اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں ۔ اس ضمن  میں ایک  اور  ایمان افروز حدیث  پاک ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ 



________________________________
1 -    مرآۃ المناجیح، ۳‏ / ۸۹۔