Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
114 - 662
 میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھےنمازِ عصرادا کی۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سلام پھیرنے  کے بعدتیزی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی ایک کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ کی اس تیزی سے گھبرا گئے۔واپسی پرلوگوں کو  اس  جلدی  فرمانے پرمتعجب دیکھا تو  ارشادفرمایا:  ’’ مجھےاپنے  پاس سونے  کا ایک ٹکڑا یاد  آگیا  تو مجھے ناپسند ہوا کہ  وہ مجھے مشغول کرے،   پس میں   نے اسے صدقہ کرنے کا حکم  دے  دیا۔ ‘‘ بخاری شریف کی دوسری روایت میں یوں ہے  کہ  فرمایا:   ’’ میں  گھر میں صدقے کے سونے کا ایک ٹکڑا  چھوڑ آیا تھا  مجھے اس کا رات بھر رکھنا پسند نہ آیا۔ ‘‘ 
زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث سے یہ مسائل مستفاد ہوتے ہیں :  (۱)  ایسی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس کے ‏لیے مسجد میں  لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر جانا جائز ہے جیسے نکسیر پھوٹنا یا فطری تقاضوں  (مثلاًپیشاب ، پاخانہ وغیرہ) کی شدت ہونا  (۲) نیک و اہم  کاموں  کی ادئیگی میں جلدی کرنی چاہیے۔ (۳) جو شخص زکوۃ ادا کرنے یا مسلمانوں کے صدقات  ادا کرنے یا وصیت پوری کرنے میں تاخیر کرے تو خدشہ ہے کہ یہ  تاخیر قیامت کے دن اُسے دُخول ِجنت سے روک  دے۔ ‘‘  (1) 
تفہیم البخاری میں علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’  اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس  نے مسلمانوں کا صدقہ وغیرہ اپنے پاس روک رکھا ہو اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ قیامت میں جنت میں داخل ہونے سے روکا جائے۔اور اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتاہے  کہ اہم کام بہت جلد سر انجام دینے چاہییں ۔ ‘‘ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ  (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   عمدۃ القاری ، کتاب ابواب صفۃ الصلوۃ، باب من صلی بالناس ۔۔۔الخ،۴‏ / ۶۲۷، تحت الحدیث: ۸۵۱ ملخصا۔
2 -   تفہیم البخاری،۲‏ / ۲۹ملخصا۔