مُعاملات میں مسلمانوں کا آپس میں اختلاف اور اُن جیسے فتنوں کےظہورسے پہلےنیک اَعمال کی طرف راغب ہوجاؤ کیونکہ اُن فتنوں کے ہوتے ہوئے تم نیک اَعمال اَحسن اَنداز سے نہ کر سکو گے۔ فتنوں کو اندھیری رات سے تشبیہ اس لیے دی گئی ہے تاکہ اُن فتنوں کی حالت بیان کی جائے کہ وہ فتنے بہت بُرے اوربھیانک ہوں گے، نہ کوئی اُن کا سبب جانتا ہوگااور نہ ان سے چھٹکارے کا طریقہ۔ ‘‘ (1)
صبح وشام، مؤمن وکافر ہونے کا معنی:
حدیث پاک میں بیان فرمایا گیا کہ آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا، صبح کافر ہوجائے گا۔عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی ایک شخص صبح کے وقت ایمان والا یا کامل ایمان والا ہوگا، شام کے وقت کافر ہو جائے گا، یا توحقیقۃ ً کافر ہوگا یانعمتوں کا انکار کرنے والا ہوگایا کافروں سے مشابہت کرنے والا ہوگا یا کافروں جیسے عمل کرنے والا ہوگا۔ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ صبح کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ شے کوحرام سمجھے گااور شام کے وقت اسے حلال جانے گا۔ الغرض دینی اُمور میں تَذَبْذُب اوردُنیوی معاملات کی وجہ سے صبح حالتِ اِیمان اور شام حالتِ کُفر پر کرے گا ۔ ‘‘ (2)
دین کو مالِ دنیا کے بدلے بیچنا:
مذکورہ حدیث پاک میں یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ وہ اپنے دین کو مال دنیا کے بدلے بیچے گا۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دین کو دنیاوی مال کے بدلے بیچنے کی چند صورتیں ہیں : (۱) مسلمانوں کے دو گروہوں میں فقط غُصَّہ اورعَصَبِیَّت کی وجہ سے قتل و غارت گری ہوگی اور وہ ایک دوسرے کا مال اور خون حلال سمجھیں گے۔ (۲) ظالم حکمرانوں کی حکومت ہوگی، وہ مسلمانوں کا خون بہائیں گے، اُن کے اَموال ناحق لوٹ لیں گے۔ بدکاری اور شراب نوشی کریں گے ۔ بعض
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن، الفصل الاول، ۹ / ۲۶۰، تحت الحدیث: ۵۳۸۳۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن، الفصل الاول، ۹ / ۲۶۰، تحت الحدیث: ۵۳۸۳۔