Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
110 - 662
حدیث نمبر:87		 
نیک اَعمال میں جلدی کرو
 عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ :یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا. (1)  
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:  ’’  (نیک)  اَعمال میں جلدی کرو،  اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات  کے حصوں کی طرح  ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ ‘‘ 
ایک بہت بڑے فتنے کی نشاندہی:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں  فرماتے ہیں :  ’’ حدیث پاک  میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ  اعمالِ صالحہ  کی ادائیگی میں جلدی کرو،  اس  وقت سے پہلے   کہ نیکیوں پر عمل کرنا مشکل ہوجائے اور تم نیکیوں سے ہٹ کر ان فتنوں میں مبتلا ہو جاؤ  جو مسلسل ہوں  گے جیسے اندھیری رات میں  مسلسل اندھیرے ہوتے ہیں ۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان فتنوں میں سے ایک فتنے  کے بارے میں بتا دیا  کہ بندہ شام کو مسلمان ہوگا ،  صبح کافر ہوگا یا اس کے برعکس ۔اور یہ بہت ہی بڑا فتنہ ہے کہ ایک ہی دن میں انسان میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے گی۔ ‘‘  (2) 
اَعمال میں جلدی  کرنےکا معنی:
عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اعمال میں جلدی کرو اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کےحصوں کی طرح ہوں گےیعنی قتل وغارت، ممنوعاتِ شرعِیَّہ  کی  کثرت،  دِینی و دُنیوی



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الایمان ، باب الحث علی المبادرۃ۔۔۔الخ ، ص۷۳، حدیث: ۱۱۸۔
2 -   شرح مسلم للنووی،کتاب الایمان، باب الحث علی المبادرۃ ۔۔۔الخ ،۱‏ / ۱۳۳، الجزء الثانی۔