Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
109 - 662
سےملنے والی  ہدایت  کو  لازم پکڑنے  میں سبقت کرو۔بے شکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں اورتمہارےقبلہ ودین وشریعت کےمخالفین کوقیامت کے دن جمع  فرمائے گا، چاہے تم زمین کے کسی بھی خطّےمیں ہو۔پھر تم میں سے نیکوں کو  ان کی نیکیوں کی جزا اور گناہ گاروں کو ان کے گناہوں کی  سزا دی جائےگی ۔یا پھر ان پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا فضل ہو گااور اُن کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ ‘‘  (1) 
 (2) ربّ کی بخشش کی طرف دوڑو
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ  وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ (۱۳۳)   (پ۴،  آل عمران: ۱۳۳) 
 ترجمہ ٔ کنزالایمان: اوردوڑواپنے ربّ کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان وزمین آجائیں پرہیزگاروں کے ‏لیے تیار رکھی ہے۔
تفسیر دُرِّمنثورمیں ہے:مسلمانوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک بنی اسرائیل ہم سے زیادہ مکرم تھے  کیونکہ جب ان میں سے کوئی گناہ کرتا تو صبح اس  کا کَفَّارَہ اپنے دروازے  پرلکھا پاتا کہ اپنی ناک کاٹ لے یا تو اپنا کان کاٹ لے یا  بطورِ کَفَّارَہ تیری   یہ سزا ہےوغیرہ وغیرہ ۔ ‘‘ یہ سن کرحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  سُکوت فرمایا ۔اس وقت یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں ؟  ‘‘ پھرلوگوں کے سامنےیہی آیت ِمبارکہ تلاوت فرمائی۔حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’ اس آیت میں مغفرت سے مراد تکبیر ِاُولیٰ ہے۔ ‘‘  (2)  (یعنی تکبیر اُولیٰ کی طرف سبقت کرو) ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   تفسیر طبری، پ۲،البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۲‏ / ۳۳۔
2 -   تفسیر د ر منثور، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۲‏ / ۳۱۴۔