با ب نمبر:10
نیکیوں میں سبقت کا بیان
نیکیوں پر اُبھارنےاور ان کی طرف سبقت کرنے کا بیان
خُدائے حَنَّان ومَنَّان عَزَّ وَجَلَّ کاہم گناہ گاروں پر کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں نبیِّ آخرالزَّمان، شہنشاہِ کون و مکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت میں پیدا فرما یا۔کروڑوں درودوسلام ہوں اُس نبیَِّ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کہ جن کے صَدقے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمارے لیے نیکی کرنا نہ صرف آسان کردیا بلکہ ہمیں اَعمالِ صالحہ پر آمادہ کرنے کے لیے اسباب بھی عطا فرمائے اور بظاہر چھوٹی نظر آنے والی نیکیوں پر عظیم بخششوں کا وعدہ فرماکر ہمارے لیے نیکیوں کی کثرت وزیادت پر استقامت کے حصول میں آسانی فرمائی ۔اگر ربّ کریم کا یہ احسان عظیم نہ ہوتا تو شایدانسان اپنی لالچی طبیعت کی وجہ سے نیکیوں کی طرف مائل نہ ہوتااور یوں دائمی نعمتوں سے محروم رہ جاتا ۔ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ نیکیوں پر ابھارنے اور ان کی طرف سبقت کرنے ‘‘ کے بارے میں ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اِس باب میں 2 آیات مُقَدَّسَہ اور8 احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔ پہلے آیات مُقَدَّسَہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
(1) نیکیوں میں سبقت کرو
قرآنِ کریم میں ارشادِباری تعالٰی ہے :
وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (۱۴۸)
(پ۲، البقرۃ: ۱۴۸)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور ہر ایک کے لیے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے، تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں ۔ تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا بیشک اللہ جو چاہے کرے۔
تفسیرِطبری میں ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس آیت میں مؤمنین کو اپنی فرمانبرداری اورآخرت کی تیاری کاحکم دیا ہے۔پس ارشاد فرمایا:اےمؤمنو!اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی فرمانبرداری اورابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت