آسمان کے عجائبات میں غور وفکر:
آسمان و زمین ، ستارے، ا ن کی گردش وطلوع و غروب کے مقامات ، ان کی کیفیت وبناوٹ اور ان کی تخلیق کے مقصد میں غوروفکر کرو ۔ ستاروں کی کثرت کی طرف دھیان دو، یہ اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار نہیں کر سکتا۔ سب کے رنگ وسائز مختلف، کوئی چھوٹا توکوئی بڑا۔ پھر ان کے اجتماع سے بکری، بیل بچھو اور ان کے علاوہ کئی مختلف شکلیں بنتی ہیں ۔ ستاروں کی گردش میں بھی بہت اختلاف ہے ۔آسمان کی مسافت کو کوئی مہینے میں ، کوئی ایک سال میں تو کوئی بارہ یا تیس سال میں ، بلکہ بعض تو تیس ہزار سال میں آسمان کی مسافت طے کر یں گے اگر اس دوران قیامت نہ آئی تو ۔اے لوگو !تم کسی دولت مند کے نقش ونگا ر سے مزین گھرکو دیکھ کرتو خوب اس کی تعریف کرتے ہو۔لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جس گھرمیں تم ہمیشہ رہتے ہو اس پر تمہیں تعجب نہیں ہوتا ۔ جی ہاں !یہ عالَم اجسام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا گھر ہے۔ زمین اس گھر کا فرش اور آسمان اس کی چھت ہے۔ اور اس چھت کا بغیر ستون کے قائم رہناکتنا تعجب خیز ہے ۔پہاڑ ا س گھر کا خزانہ ، سمندر اس کا گنجینہ، حیوانات و نباتات اس گھر کا سازوسامان، چاند اس کا چراغ ، سورج اس کی مشعل ستارے اس کی قندیلیں اور فرشتے مَشعل بردار ہیں ۔ مگر تم ان عجائب سے بے خبر ہو ۔ اس بے خبری کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ گھر بہت ہی بڑا ہے اورتمہاری آنکھیں بہت جھوٹی ہیں ، وہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ تمہاری مثال تو اس چیونٹی کی طرح ہے جس کا بِل بادشاہ کے وسیع وعریض محل میں ہو۔ اس کی معرفت صرف اپنے بِل، غذااور اپنے ساتھیوں تک محدود رہتی ہے۔ وہ قصرِ شاہی کی رونق ، غلاموں کی کثرت اور تختِ شاہی کی عظمت سے بالکل بے خبر رہتی ہے۔ تواے انسان! اگر تو چیونٹی کی طرح بنناچاہتا ہے توتیری مرضی، ورنہ معرفت الٰہی کے باغات کی سیر کا طریقہ تجھے بتا دیا گیا ہے، پس تواپنی محدود سوچ کے دائرے سے باہر نکل تاکہ قدرت الٰہی کی حیران کُن اور تعجب خیز نشانیوں کو دیکھ سکے ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۱۸ ملخصا۔