اس عظیم نعمت سے بے خبر ہے۔ ہواکشتیوں کو قائم رکھتی اور انہیں غرق ہونے سے بچاتی ہے۔ذرادیکھو بادل ، بارش ، بجلی ، اولے، گرج وغیرہ ہوا میں کیسے مُعَلَّق ہیں ۔بڑے بڑے بادلوں کوہواکیسے چلاتی ہے اورپھر یہ پہاڑوں دریاؤں اور چشموں سے دُوردَراز مقامات پر اس طرح برستے ہیں کہ ہر قطرہ بتدریج سیدھا اسی مقام تک پہنچتاہے جہاں اسے پہنچنے کا حکم ہے۔اس بارش سے جاندار سیراب ہو تے ہیں ، فصلیں سرسبز وشاداب ہوتیں ہیں اور حسبِ ضرورت بیجوں ، پھلوں اور میووں تک پانی پہنچتا ہے۔
تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس لطف و کرم سے بے خبر رہ کر اس کے میوے اورپھل کھاتے ہو ۔ بارش کے ہر ہر قطرے پرلکھا ہوتا ہے کہ تجھے فلاں جگہ پہنچنا ہے، فلاں کے لیے رزق بننا ہے ۔ بارش کے قطروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی شمار نہیں کرسکتی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّبارش کے پانی کو پہاڑوں پربرف کی صورت میں جما دیتاہے، پھر وہاں سے برف پگھل کر نہروں ، دریاؤں میں پہنچتی ہے تاکہ موسمِ گرمامیں فصلوں کو بتدریج پانی ملتا رہے۔ اگریہی پانی بارش کی صورت میں ایک دفعہ ہی برس جاتا توپھر سارا سال نباتات خشک رہتے۔ الغرض برف میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے شماررحمتیں ہیں بلکہ زمین وآسمان اوراُن میں موجود تمام اشیاء اس نے عدل وحکمت سے پیدا فرمائی ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ (۳۸) مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (۳۹) (پ۲۵، الدخان: ۳۸، ۳۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر۔ ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ، لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں ۔
اے لوگو ! تم پر لازم ہے کہ غورو فکر کی راہوں پربتدریج آگے بڑھو، سب سے پہلے اپنے آپ کو پہچانو، پھر زمین، نباتات ، حیوانات او رجمادات پر غور کرو۔ پھرہوا ، بادل اور ان کے عجائبات پہچانو ، پھر آسمان و کواکب پھر کرسی اور اس کے بعد عرشِ الٰہی میں تَفَکُّر کرو۔پھر عالَمِ اَجسام سے نکل کر عالَمِ اَرواح میں غور وفکر و کرو پھر ملائکہ کو پہنچانوپھر شیاطین اور جنات میں غور وفکر کرو۔پھر فرشتوں کے درجات، ان کے مختلف مقامات میں غورو فکر کرو۔ (1)
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۱۶، ۹۱۷ ملخصا۔