ایک سمندری درخت کے عجائبات:
اسی طرح سمندر کے اندر جھاڑ کی طرح کا ایک سرخ درخت ہے جس کا پھل سرخ موتی ہیں ، جنہیں مونگا یا مرجان کہا جاتا ہے ۔سمندر کی جھاگ سے عنبر بنتا ہے ۔ ان کے علاوہ بھی سمندری اشیاء میں بے شمار فوائد وعجائب ہیں ۔
سمندری کشتیوں کے عجائبات:
سمندر میں کشتیوں کے چلنے پر غور کرو، دیکھو ان کی شکلیں کیسی بنائی گئیں کہ پانی میں غرق نہیں ہوتیں ۔ پھر کشتی بان کو یہ سمجھ دی گئی کہ وہ مخالف وموافق ہوا میں تمیز کر سکے۔پھر سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جہاں پانی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا وہاں ستارے سمتوں کی تعیین کے لیے پیدا کیے گئے۔پھرربِّ کریم کا مزیدکرم ہے کہ اس نے پانی کولطافت سے بھر پور، خوشنمااور ملے ہوئے اجزاء والا بنایا، پھر ان تمام حیوانات اور نباتات کی زندگی کو اس سے وابستہ رکھا۔کتنی تعجب کی بات ہے کہ اگر تمہیں شدید پیاس کے وقت پانی نہ ملے تو اپنی ساری دولت دے کر بھی اسے حاصل کرو گے، پینے کے بعداگرجسم سے خارج نہ ہو تو اس سخت مصیبت سے نجات پانے کے لیے تم اپنا سارا مال خرچ کر نے کو تیار ہو جاؤ۔الغرض سمندروں اور پانی کے عجائب اس قدر کثیر ہیں کہ شمار سے باہر ہیں ۔ (1)
ہواکے عجائبات میں غوروفکر:
ہوا اور اس میں پائی جانے والی اشیا ء بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بڑ ی نشانیاں ہیں ۔جب تم غور کرو گے تو معلوم ہو گا کہ ہوا بھی ایک مَوجزن سمندر ہے۔ اس میں اس قدرلطافت ہے کہ آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی یہ نظر کے لیے حجاب بنتی ہے ۔ ہوا زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔کیونکہ کھانے پینے کی حاجت تودن بھر میں ایک دو مرتبہ ہوتی ہے۔ مگر ہوا نہ ملنے پرفوراًہلاکت واقع ہو جاتی ہے ۔ لیکن اے انسان! تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۱۵، ۹۱۶ ملخصا۔