اس میں سے بغیر مشقت مل جاتا ہے۔ تو پھرمیرے کریم ربّ کا حق کیسے ادا ہو سکتا ہے؟ الغرض ہر چھوٹا بڑا حیوان بلکہ کائنات کی ہر شے اپنے اپنے اندازمیں اپنے ربّ کی پاکی بیان کر تی ہے ، لیکن اکثر لوگ اس سے بے خبر ہیں ۔ فرمانِ باری تعالٰی ہے :
وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ- (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۴۴)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ (1)
سمندرکے عجائبات میں غوروفکر:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کی ایک بڑی نشانی سمندر ہیں ۔دنیا کاسمندر اس بڑے سمندر کا ایک حصہ ہے جس نے پوری دنیا کو گھیرا ہو اہے۔اورساری زمین ان سمندروں کے مقابلہ میں چند جزیروں سے زیادہ نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ’’ زمین سمندر میں اس طرح ہے جیسے زمین میں اصطبل ۔ ‘‘ سمندر زمین سے کئی گناہ بڑے ہیں اس لیے ان کے عجائبات بھی بے شمار ہیں ۔زمین پر موجود ہر جانور کی نظیر سمندر میں پائی جاتی ہے ۔ ان کے علاوہ ایسے جانور بھی ہیں جو زمین پر نہیں پائے جاتے، یہ سب سمندر ہی میں پیدا ہوتے ہیں ، سب کی شکلیں اور طبیعتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ سمندر میں کچھ جانور ایسے بھی ہیں جنہیں ہماری آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ اور کچھ اتنے بڑے کہ ان پر کشتیاں چلتی ٹھہر جاتی ہیں مگر انہیں خبر تک نہیں ہوتی ۔
ایک سمندی جانورکے عجائبات:
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سمندر کی گہرائیوں میں ایک جانور پیدا کیا ہے جس کا خول سیپ ہے۔ وہ حکم ربی سے برسات کے وقت دریا کی سطح پر آکر اپنا منہ کھولتا ہے اوربارش کے شیریں قطرے اپنے اندر لے کر سمندر کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔وہاں اس کے شکم میں ان قطروں کی پرورش اس طرح ہوتی ہے جیسے انسانی نطفے کی پرورش ماں کے پیٹ میں ہو تی ہے ۔ پھر یہ قطرہ قیمتی موتی بن جاتا ہے جس سے زیورات بنائے جاتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۱۲ تا ۹۱۵ ملخصا۔