کرنے کی کسے طاقت ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شان ہے کہ چاہے توآنکھیں ہونے کے باوجود انسان کو کچھ نظر نہ آئے ، دل ہوں لیکن تَفَکُّر کی دولت نصیب نہ ہو ۔ لوگ سر کی آنکھوں سے تو دیکھتے ہیں لیکن دل کی آنکھوں سے دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتے۔ان کے کان حکمت کی باتیں سننے سے بہرے ہیں حتی کہ جانوروں کی طرح سوائے ظاہری آواز کے کچھ اور نہیں سنتے۔
چیونٹی کے انڈے کے عجائبات:
ذراچیونٹی کے انڈے کی طرف دیکھوجو ایک ذرے کے برابر ہے گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ اے انسان ! اگر کوئی شخص دیوار پرکوئی تصویر بنائے تو اس کی تصویر سازی کی مہارت پر تجھے تعجب ہوتا ہے۔ آ !میری طرف دیکھ ، پھر تجھے مُصَوِّرِحقیقی (اللہ عَزَّ وَجَلَّ) کی مصوری کا کچھ اندازہ ہو جائے گا ۔میں ایک ذرے کی مثل ہوں ، مجھے میراخالق ایک چیونٹی میں تبدیل کر دے گا، پھر تو میرے اعضا پر غور کرنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے ہاتھ، پاؤں ، سر، دل ، آنکھ، ناک، منہ اور دوسرے اعضاء کیسے بنائے ، میرے جسم میں غذا کھانے، ہضم کرنے اور اس کے اِخراج کے لیے اعضاء ومقامات بنائے۔ میرے جسم کو تین حصوں میں مُنْقَسِم کیا پھرانہیں آپس میں جوڑ دیا ، میرے جسم پر کالی چادر پہنا کر مجھے اُس عالَم میں ظاہر کیا جسے تو صرف اپنے لیے سمجھتا ہے۔ پھر تجھے میرے لیے مسخر کر دیا ۔جی ہاں ! دن رات کی محنت ومشقت کے بعدجب تیری کاشت کی ہوئی فصلیں تیار ہو جاتی ہیں ا ورتو انہیں کاٹ کر کہیں ذخیرہ کرلیتا ہے تو مجھے خبر ہو جاتی ہے ، وہاں پہنچ کر میں اپنا حصہ لے لیتی ہوں ۔ممکن ہے تو شدید محنت ومشقت کے بعد بھی ایک سال کی خوراک جمع نہ کر سکے۔ لیکن میں سال بھر کی خوراک جمع کر لیتی ہوں ۔
پھر اس خوراک کو سکھانے کے لیے اگر کسی جگہ لے جاؤں اور وہاں برسات ہونے والی ہو تومجھے خبر ہو جاتی ہے چنانچہ میں اپنی خوراک کسی محفوظ جگہ میں منتقل کر دیتی ہوں ۔ لیکن اے انسان !تجھے برسات کی پہلے سے خبر نہیں ہوتی اور تیرا غلہ خراب ہو جاتا ہے ۔جب میرے ربّ کی مجھ ناچیز پر اتنی کرم نوازیاں ہیں اور تجھ جیسی اشرف مخلوق میرے لیے مسخر کردی گئی کہ تو محنت ومشقت سے غلہ حاصل کرتا ہے لیکن مجھے