چار پاؤں پر اور بعض پیٹ کے بَل چلتے ہیں ۔اب ذراپرندوں اورحَشَرَاتُ الارض کی اَقسام کی طرف نظر کرو ان میں سے ہر ایک کی شکل و صور ت مختلف ہے ۔ اُنہیں اُن کی ضرورت کی تمام چیز یں عطا کی گئیں ۔ ہر ایک کو غذا حاصل کرنے ، بچوں کی پر ورش اور اپنے گھونسلے بنانا سکھا یا ۔
چیونٹی کے عجائبات:
چیونٹی ہی کو دیکھو کہ وہ اپنی غذا کا اہتما م کس طرح کرتی ہے۔ وہ گندم کے دانوں کودرمیان سے توڑ ڈالتی ہے تاکہ ان میں کیڑا نہ لگے اور خراب ہونے سے محفوظ رہیں ۔دھنیااگر ثابت نہ رہے تو خراب ہوجاتا ہے اس لیے اسے ثابت رکھتی ہے۔
مکڑی کے عجائبات:
مکڑی کو دیکھو اپنا گھر کس اندازے اور حکمت سے بناتی ہے۔ دیوار کے دو کونوں میں اپنے لعاب سے دھاگے بناکر ترتیب وسلیقے سے دھاگوں میں برابر کا فاصلہ رکھ کر اپنا گھر بناتی ہے ۔پھر ایک تار پر لٹک کر مکھی کا انتظار کرتی ہے، مکھی نظرآتے ہی اسے پکڑ کر تاروں میں جکڑ دیتی ہے پھر یہی مکھی اس کی غذا بنتی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مچھر کے عجائبات:
ذرامچھرکو دیکھواس کی غذا خون ہے۔ اسے تیز، باریک اور کھوکھلی سونڈدی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارے بدن سے حسبِ ضرورت خون چوس سکے۔پھر اسے یہ پہچان دی گئی کہ جب تم اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو تو فوراًاُڑجاتاہے ۔ تیز اور جلدی اڑنے کے لیے اسے دو پر دئیے گئے ہیں ۔ اگر مچھر میں عقل و زبان ہوتی تو وہ اپنے ربّ کا اتنا شکر بجالاتا کہ انسانوں کو اس پر تعجب ہوتا ۔
اب بھی وہ زبان حال سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تحمید وتقدیس بیان کرتا اور اس کا شکر بجا لاتا ہے لیکن انسان کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لاکھوں حکمتوں میں سے ایک حکمت کو پہچاننے اور اس کے بیان