جس کے پاس چھ تولے سونا ہو!
جس کے پاس چھ تولے یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابرسونا ہو اگرچہ اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی کہ سونے کی نصاب ساڑھے سات تولے ہے مگر ایسا شخص زکوٰۃ لے نہیں سکتا ۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ ۲۷ص۹۲۹)
حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو تو؟
جس کے پاس ضرورت کے سواایسا سامان ہے جو مال نامی نہ ہو اور نہ ہی تجارت کے لئے اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہےتو اسے زکوٰۃ نہیں دے سکتے اگرچہ خُود اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ ۲۷ص۹۲۹)
جس کے پاس بہت سا جہیز ہو!
عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے، اس میں2 طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک:حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان