اولاً تو مالداروں کو چاہے کہ اپنے مال سے بطورِ ہدیہ ان حضراتِ عالیہ کی خدمت اپنی جیب سے کریں اور وہ وقت یاد کریں کہ جب ان ساداتِ کرام کے جدِّاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کے سوا ظاہر ی آنکھوں کو بھی کوئی ملجاوماوا نہ ملے گا ۔ وہ مال جو انہی کی بارگاہ سے عطا ہوا اور عنقریب چھوڑ کر زیرِ زمین جانے والے ہیں اگر ان کی خوشنودی کے لئے ان کی مبارک اولاد پر خرچ ہوجائے تو اس سے بڑھ کر کیا سعادت ہوگی ۔ اور اگر کسی علاقے میں ایسی ترکیب نہ بن سکے تو کسی مستحق ِ زکوٰۃ کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنا کرمال اس کے قبضہ میں دے دیں پھر اسے اس سید صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کا مشورہ دیں ۔( فتاویٰ امجدیہ ،ج۱، ص۳۹۰،ملخصاً)