Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
66 - 149
مجھے اور میری اولاد کو زکوٰۃ لینا اس لئے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے ،لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا میل کیوں لیں۔''(مراٰ ۃ المناجیح،ج۳،ص۴۶)
سادات کی امداد کی صورت
    اولاً تو مالداروں کو چاہے کہ اپنے مال سے بطورِ ہدیہ ان حضراتِ عالیہ کی خدمت اپنی جیب سے کریں اور وہ وقت یاد کریں کہ جب ان ساداتِ کرام کے جدِّاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کے سوا ظاہر ی آنکھوں کو بھی کوئی ملجاوماوا نہ ملے گا ۔ وہ مال جو انہی کی بارگاہ سے عطا ہوا اور عنقریب چھوڑ کر زیرِ زمین جانے والے ہیں اگر ان کی خوشنودی کے لئے ان کی مبارک اولاد پر خرچ ہوجائے تو اس سے بڑھ کر کیا سعادت ہوگی ۔ اور اگر کسی علاقے میں ایسی ترکیب نہ بن سکے تو کسی مستحق ِ زکوٰۃ کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنا کرمال اس کے قبضہ میں دے دیں پھر اسے اس سید صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کا مشورہ دیں ۔( فتاویٰ امجدیہ ،ج۱، ص۳۹۰،ملخصاً)
گداگروں کو زکوٰۃ دینا
گداگر تین قسم کے ہوتے ہیں :

(۱) غنی مالدار: انہیں سوال کرنا حرام اور ان کو دینا بھی حرام ،انہیں دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی کہ مستحق ِ زکوٰۃ نہیں ہیں۔

(۲)وہ فقیر جو تندرست اور کمانے پر قادر ہو: یہ لوگ بقدرِ حاجت کمانے پر قادر ہونے کے باوجود مفت کی روٹیاں توڑنے اور اس کے لئے بھیک مانگنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ ایسے پیشہ وروں کو سوال کرنا حرام ہے اور جو کچھ ان کو ملے ان کے حق میں مال ِخبیث ہے
Flag Counter