Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
117 - 149
کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے جبکہ بچے مالدار نہ ہوں۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)
صدقہ فطر کے لئے روزہ شرط نہیں
    صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ،لہٰذا کسی عذر مثلاًسفر مرض ،بڑھاپے یا معاذ اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) بلاعذر روزے نہ رکھنے والا بھی فطرہ ادا کریگا ۔
 (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۷)
نابالغ منکوحہ لڑکی کا فطرہ کس پر؟
     نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اُسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔
 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)
بچے پاکستان میں اور باپ ملک سے باہرہو تو
     اگر کسی کے چھوٹے بچے پاکستان میں رہتے ہیں اور باپ ملک سے باہر ہے تو اس صورت میں باپ پر چھوٹے (نابالغ) بچوں کے صدقہ فطر کے گیہوں کی قیمت بیرونِ ملک کے حساب نکالنا واجب ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے، صدقہ فطر میں صدقہ دینے والے کے مکان کا اعتبار ہے چھوٹے بچوں کے مکان کا اعتبار نہیں۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳ ملخصا)
Flag Counter