(ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۸۰)
نابالغ اگر صاحب ِ نصاب ہوتو اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ اس کا ولی اسکے مال سے فطرہ ادا کرے ۔
(ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۲۰۷،۲۱۴۔۳۶۵)
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا فطرہ
جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو،اس کی طرف سے صدقہ فطر اداکرنا واجب نہیں۔
(الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۲)
اگر بڑا بھائی اپنے چھوٹے غریب بھائی کی پرورش کرتا ہوتو اس کاصدقہ فطر مالدار باپ پر واجب ہے نہ کہ بڑے بھائی پر۔فتاوی عالمگیری میں ہے :''چھوٹے بھائی کی طرف سے صدقہ و اجب نہیں اگرچہ وہ اس کی عیال میں شامل ہوں۔ ''
(الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳)