Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
432 - 691
تَعَالٰی عَنْہَانے اجازت دے دی۔ تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتشریف لائے (اور پردے میںعیادت وغیرہ کی)پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی رضا حاصل کرنے کے لیے ارشاد فرمایا:’’ بخدا میرے ترکے سے میرا مکان ، میرا مال، میرے اہل اور میرے رشتہ دار اور جوکچھ بھی ہے وہ سب   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے ہے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کے لیے ہےاوراے اہل بیت! آپ کی رضا کے لیے ہے۔‘‘ پھر حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی رضا طلب کرتے رہے حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  راضی ہوگئیں۔   (السنن الکبری للبیھقی، کتاب قسم الفیء والغنیمۃ، باب بیان مصرف اربعۃ ، الحدیث:۱۲۷۳۵، ج۶، ص۴۹۱)
شہزادیٔ کونین کاوصال
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے تقریبا چھ ماہ بعد ۳رمضان المبارک ۱۱سن ہجری بمطابق ۲۲ نومبر۶۳۳ء بروز منگل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وصال فرما گئیں۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عمرمبارک ۲۹ سال تھی۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۶، تاریخ الخلفاء، ص۵۷)
نماز جنازہ صدیق اکبر نے پڑھائی
حضرت سیدنا جعفر بن محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی صاحبزادی، شہزادی کونین سیدتنا فاطمہ الزہراءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا انتقال ہو ا تو سیدنا صدیق اکبر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آپ کی نماز جنا زہ میں تشریف لائے سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو نماز پڑھانے کے لیے فرمایا توحضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’اے امیرالمومنین! آپ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ ہیں، میں آپ کی موجودگی میں نماز نہیں پڑھاؤں گا۔‘‘ پھر حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آگے بڑھے اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی