مسلمانوں پر صدقہ ہے۔‘‘ (عمدۃ القاری،کتاب الفرض الخمس، باب فرض الخمس، ج۲۲، ص۲۱۰)
انبیاء کرام کی میراث علم ہے
حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ یعنی انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )درہم ودینارکا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ توعلم کا وارث بناتے ہیں، لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے پورا حصہ پا لیا۔‘‘ (سنن الترمذی، کتاب العلم، ابواب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ۔۔۔الخ ،الحدیث :۲۶۹۱،ج۴، ص۳۱۲)
علماء انبیاء کےوارث ہیں
حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’اِنَّ اَلْعُلَمَآءَ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِیعنی بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب السنۃ،باب فضل العلماء۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۲۳، ج۱، ص۱۴۶ملتقطا)
صدیق اکبر کی شہزادیٔ کونین سے والہانہ محبت
جب خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیمار ہوئیں تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لائے اور ان سے ملنے کی اجازت طلب کی۔حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا: ’’اے فاطمہ! امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ سے ملنے تشریف لائے ہیں اور اجازت طلب فرمارہے ہیں؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’کیا آپ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دوں ؟‘‘ فرمایا:’’ جی ہاں۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ