سے تھا جس میں وراثت جاری ہوگی اسی وجہ سے انہوں نے وراثت کو طلب فرمایا۔ جبکہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ودیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس حدیث کو عموم پر محمول کیا کرتے تھے اور ان کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےکسی مال میں وراثت جاری نہیں ہوسکتی تھی ۔‘‘ (فتح الباری،کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس، الحدیث:۳۰۹۴، ج۷، ص۱۶۴)
شہزادیٔ کونین کے مطالبہ کی برکت
خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے باغ فدک کے مطالبہ کی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ یار غار، عاشق اکبر حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زبان حق سے قیامت تک آنے والے مسلمانوں تک ایک اہم مسئلہ پہنچ گیا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔
انبیاء کی میراث نہ ہونے کی حکمت
علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الۡغَنِی عمدۃ القاری میں ارشاد فرماتے ہیں: (۱)انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی میراث نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص ان کے متعلق مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہ بدگمانی نہ کرے کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے لیے مال جمع کیا ہے اور نبوت کا دعوی اور اشاعت دین کی تمام سعی حصول مال کے لیے تھی۔(۲)ایک قول یہ بھی ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی تمام تر امت میں بمنزلہ باپ ہوتے ہیں اور ان کی تمام امت ان کے لیے بمنزلہ اولاد ہے اس لیے ان کا سارا مال ان کی تمام اولاد کے لیے صدقہ کردیاجاتاہے، اس لیے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’مَا تَرَکْنَا فَھُوَصَدَقَۃٌ یعنی ہم نے جوکچھ مال وغیرہ چھوڑا وہ