Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
429 - 691
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی لاڈلی بیٹی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مال فئی (باغ فدک) عطا فرمایا تھا اس کو بطور میراث تقسیم فرمائیں۔امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بصد عجز واحترام ارشاد فرمایا:’’آپ کے باباجان رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ہے: ’’لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا فَھُوَصَدَقَۃٌ یعنی ہم (انبیاء )کا کوئی وارث نہیں ہوتا،ہم نے جوکچھ مال وغیرہ چھوڑا وہ مسلمانوں پر صدقہ ہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب قرابۃ ۔۔۔ الخ، الحدیث: ۳۷۱۱۔ ۳۷۱۲، ج۲، ص۵۳۷،۵۳۸وکتاب الفرائض،باب قول النبی لا نورث ۔۔۔ الخ، الحدیث: ۶۷۲۵۔ ۶۷۲۶، ج۴،ص۳۱۳ملتقطاً)
شہزادیٔ کونین نے میراث کا مطالبہ کیوں کیا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاگرچہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سفر وحضر کے ساتھی تھے، لیکن خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی لخت جگر تھیں،یقیناً وہ بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان پرمطلع تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے میراث کا مطالبہ کیوں کیا؟ علامہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی اس بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ’’حضرت سیدتنا فاطمہ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَااس حدیث پر مطلع تھیں لیکن آپ اس حدیث کو عام نہیں سمجھتی تھیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ترکے میں سے کسی چیز کا بھی کوئی وارث نہیں ہوگا، ان کے نزدیک اس حدیث کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ترکے میں سے بعض چیزوں کا کوئی وارث نہیں ہوگااور باقی چیزوں میں وراثت جاری ہوگی اور باغ فدک اس مال میں