عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اسی پاکیزہ حیات کو یوں بیان کرتے ہیں:
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، عاشق اعلیٰ حضرت، مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ارشاد فرماتے ہیں:
کبھی جو کی موٹی روٹی، تو کبھی کھجور پانی
تیرا ایسا سادہ کھانا، مدنی مدینے والے
حضرت سیدنا عمرو بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےفرماتے ہیں: ’’مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِہٖ دِرْھَمًا وَّلَا دِیْنَارًا وَّلَا عَبْدًا وَّلَا اَمَۃً وَّلَا شَیْئًا اِلَّا بَغَلَتَہٗ الْبَیْضَاءَ وَسِلَاحَہٗ وَ اَرْضًا جَعَلَھَا صَدَقَۃً۔یعنی دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی وفات کے وقت نہ درہم و دینار چھوڑا، نہ لونڈی و غلام، نہ اور کچھ، صرف اپنا سفید خچر ، چند ہتھیار اور کچھ زمین چھوڑی اور وہ بھی عام مسلمانوں پر صدقہ فرما گئے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب الوصایا۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۷۳۹، ج۲، ص۲۳۱)
بہر حال آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ترکے میں تین چیزیں تھیں۔ (۱) باغ فدک، خیبر کی زمینیں (۲) سواری کا ایک جانور(۳)اورچند ہتھیار۔
شہزادیٔ کونین اورمیراثرسول اللہ
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر