کے حوالے کر دیا تھا۔اس کی آمدنی دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل وعیال ازواج مطہرات وغیرہ پر صرف فرماتے تھےاور تمام بنی ہاشم کو بھی اس کی آمدنی سے کچھ مرحمت فرماتے تھے، مہمان اور بادشاہوں کے سفراء کی مہمان نوازی بھی اس آمدنی سے ہوتی تھی، اس سے غریبوں اور یتیموں کی امداد بھی فرماتے تھے، جہاد کے سامان تلوار، اونٹ اور گھوڑے وغیرہ اس سے خریدے جاتے تھےاور اصحاب صفہ کی حاجتیں بھی اسی سے پوری فرماتے تھے۔ (سنن ابی داود،کتاب الخراج والفیئ۔۔۔الخ،باب فی صفایا ۔۔۔ الخ، الحدیث:۲۹۶۳، ج۳، ص۱۹۳، ۱۹۴ملتقطاً، مدارج النبوت، ج۲،ص۴۴۵، تاج العروس، ج۲۷، ص۲۹۲)
صدیق اکبر اور رسول اللہکی اتباع
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمنصب خلافت پرفائز ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی باغ فدک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو انہیں تمام مصارف میں خرچ کیا جن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خرچ فرمایا کرتے تھے، باغ فدک کی آمدنی خلفائے اربعہ کے زمانہ تک اسی طرح صرف ہوتی رہی۔
(سنن ابو داود، کتاب الخراج والفیء، باب فی صفایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث:۲۹۷۲، ج۳، ص۱۹۸)
بعد وصالرسول اللہ کا ترکہ
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مقدس زندگی اس قدر پاکیزہ اور سادہ تھی کہ کچھ اپنے پاس رکھتے ہی نہ تھے بلکہ آپ کی بارگاہ میں جو بھی ہدیہ وغیرہ پیش کیا جاتا فوراً اسے اپنے اصحاب میں تقسیم فرما دیتےاور کاشانۂ اقدس میں کئی کئی دنوں تک چولہا تک نہ جلتا ۔
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی