چورکی عبادت والی رات
حضرت سیدنا عبد الرحمن بن قاسم عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الۡحَاۡکِم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک یمنی شخص آیا جس کا(چوری کی سزا پانے کے سبب) ایک ہاتھ اور پاؤں کٹا ہوا تھا، اس نے شکایت کی کہ یمن کے عامل نے (میرا ہاتھ اورایک پاؤں کاٹ کر بلا وجہ)مجھ پر بہت ظلم کیا ہے۔‘‘حالانکہ وہ ساری ساری رات عبادت کرتا تھا۔(اس کی عبادت و ریاضت کے سبب) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’تیری رات توچورکی رات کی طرح نہیں ہے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے زیورات گم ہوگئے سب لوگ تلاش کرنے لگے وہ شخص بھی سب کے ساتھ مل کر زیورات کی تلاش میں لگ گیااور ساتھ ہی یہ دعا کرتا رہا: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے اپنی پکڑ میں لا جس نے نیک گھر والوں کے ساتھ زیادتی کی ہے۔‘‘تلاش بسیار کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زیور فلاں سنار کے پاس ہیں،اس سنار سے پوچھ گچھ کی گئی کہ یہ زیورات اس کے پاس کہاں سے آئے؟تواس نے کہاکہ غالباًیہ زیورات ایک ہاتھ پاؤں سے معذور شخص میرے پاس لایا تھا۔ لوگوں نے فوراًً اس شخص کو پکڑااور تفتیش کرنے پراس نے اقرار جرم کرلیایا اس کے خلاف گواہ قائم ہوئے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا بایاں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیااور ارشادفرمایا:’’خدا کی قسم! اس نے اپنی ذات کے لیے جو بددعا کی وہ میرے نزدیک اس کی چوری کی سزاسے بھی زیادہ سخت ہے۔‘‘ (السنن الکبری للبیھقی، کتاب السرقۃ، باب السارق یعود فیسرق ثانیا،الحدیث: ۱۷۲۶۳، ج۸، ص ۴۷۵)
باغ فَدَک اور صدیق اکبر
فدک کیا ہے؟
’’فَدَک‘‘ خیبر کا ایک علاقہ ہے اس میں کھجور کے باغات اور چشمے ہیں،یہ علاقہ کفار نے بغیر لڑائی کے مسلمانوں