بندہ زناکرتاہے توکیاوہ بھی اس کی تقدیر میں لکھاہوتاہے؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘اس نے دوبارہ کہا:’’جب یہ تقدیر میں لکھاہوا تھا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہی مجھ پر مقرر فرمایا تو پھرمجھے سزاکیوں دے گا؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں آگئے اور ارشادفرمایا:’’اے بکواس کرنے والی کے بیٹے! اگر میرے پاس ابھی کوئی ہوتاتومیں اسے تیری ناک کاٹنے کا حکم دیتا۔‘‘(کنز العمال، کتاب الایمان والاسلام ، الفصل السابع، فی الایمان بالقدر، الحدیث: ۱۵۳۳، ج۱،الجزء:۱، ص ۱۷۶)
دماغ میں شیطان گھساہے
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں ایک شخص لایاگیا جس نے اپنے باپ کا انکار کردیا ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا: ’’اس کے سر پرضرب لگاؤ کیونکہ اس کے دماغ میں شیطان گھساہواہے۔‘‘
(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الحدود، فی الراس یضرب فی العقوبۃ، الحدیث:۱، ج۶،ص۵۹۱، تاریخ الخلفاء، ص۷۶)
چورکےلیےقتل کاحکم
حضرت سیدنا عبداللہبن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دورمیں ایک چور لایا گیا ،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔عرض کی گئی:’’ یارسول اللہ !اس نے چوری کی ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کےہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ بعد میں وہی شخص حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں چوری کے الزام میںلایا گیا اوراس کاایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹاہوا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے دیکھتے ہی ارشادفرمایا:’’تیرے لیے قتل کاحکم ہی بہتر تھا جورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتیرے لیے جاری فرمایا تھا۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے قتل کاحکم دے دیا۔ (مسند ابویعلی، مسند ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ،الحدیث:۲۸، ج۱،ص۳۳ ملتقطا )